بعض باپ بیٹے کے سامنے بھی اجنبی ہو جاتے ہیں، جب وقت بہت دیر سے ملے۔ مرکزی خیال:
باپ کے پاس وقت مانگنے سے پہلے ختم ہو جاتا ہے۔ جب بیٹا واپس آتا ہے تو ہاتھ سرد ہو چکا ہوتا ہے۔ خاموشی سب سے اونچی چیخ ہوتی ہے۔
رات کے تین بجے تھے۔ راحت کی آنکھ کھل گئی۔ کوئی وجہ نہیں تھی۔ نیند ٹوٹی تو ٹوٹ گئی۔
کروٹ لی۔ موبائل دیکھا۔ تین بارہ۔ دل دھک دھک کرنے لگا۔
اٹھا۔ پانی پیا۔ لیٹا۔ پھر کچھ کھینچا سا۔ دوسرے کمرے کی طرف گیا۔
دروازہ ادھورا تھا۔ باپ بیڈ پر لیٹے تھے۔ آنکھیں کھلی تھیں۔ سیلنگ کو دیکھ رہے تھے۔ کسی چیز کو نہیں۔
"ابو؟"
جواب نہیں۔ بس آنکھیں۔ کھلی، خشک، کہیں کھوئی ہوئی۔
راحت قریب بیٹھ گیا۔ "نیند نہیں آ رہی؟"
باپ نے ہونٹ ہلائے۔ آواز نہ نکلی۔ آنکھیں بند کر لیں۔
راحت نے ہاتھ تھاما۔ سرد تھا۔
باہر ہوا چل رہی تھی۔ کھڑکی کا پلاسٹک پردہ ہل رہا تھا۔ ہاتھ نہ چھوڑا۔
باپ نے آنکھ کھولی۔ بیٹے کو دیکھا۔ پہچان کی چمک نہیں تھی۔ بس سوال تھا: تُو کون؟
راحت کا گلا بھرا۔ "ابو، میں راحت ہوں۔"
باپ کا ہاتھ ہلکا دب گیا۔ بس اتنا۔ ایک پوری دنیا دب گئی۔
پھر ہاتھ کھینچ لیا۔ دیوار کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے۔
راحت نکلا۔ دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔
مرکزی کمرے میں ماں چائے کا کپ لے کر کھڑی تھیں۔ راحت کو دیکھتے ہی کپ میز پر رکھ دیا۔ کوئی بات نہیں کی۔
راحت نے کہنا چاہا: امی، ابو کی طبیعت…
الفاظ بے معنی لگے۔
برآمدے میں جا بیٹھا۔ موبائل ہاتھ میں تھا۔ سوچا: ناشتا، میٹنگ، کار کی سروس۔
پھر سوچ بدلی۔
اسی گھر میں بچپن میں گرتا تو باپ دوڑ کر آتے۔ اٹھاتے۔ سینے سے لگاتے۔ "چوٹ نہیں آئی نا، بیٹا؟"
ایک بار تیز بخار ہوا تھا۔ باپ پوری رات سرہانے بیٹھے رہے تھے۔ جب تک ہوش نہ آیا۔
آج وہی باپ تھے۔ اب راحت پانچ منٹ بیٹھ کر کہتا: "ابو، کام ہے۔"
ماں اب بھی ٹانگیں دباتی تھیں۔ "امی، چھوڑو" کہنے پر چھوڑ دیتی تھیں۔ اس کے جانے کے بعد دس منٹ کرسی پر بیٹھی رہتی تھیں۔
موبائل رکھ دیا۔
بچپن کے کمرے میں چلا گیا۔ اب کوئی نہ رہتا تھا۔ دیواروں پر پوسٹر۔ الماری میں پرانی کاپیاں۔
ڈائری نکلی۔ پہلا صفحہ: "میں بڑا ہو کر ابو کی طرح بنوں گا۔"
آنکھیں بند کر لیں۔
صبح ہوئی۔ باپ وہیں تھے۔ اسی بیڈ پر۔ اسی طرف منہ کیے۔ پانی کا گلاس اٹھایا۔ پاس گیا۔
"ابو، پانی"
باپ نے سر ہلایا۔ نہیں۔ آنکھوں میں نمی تھی۔
ہاتھ میں کلاس فورتھ کی رپورٹ کارڈ تھی۔ "اوور آل بہترین طالب علم"۔ بارہ سال محفوظ رکھی تھی۔
راحت نہ بول سکا۔
سرہانے بیٹھ گیا۔ ہاتھ پھر تھام لیا۔ اس بار باپ نے نہ کھینچا۔
دونوں خاموش تھے۔
گھر میں صرف پنکھے کی آواز تھی۔
اور اس آواز میں ایک خاموشی چیخ رہی تھی۔
-----------
مشکل الفاظ کے معنی
ادھورا: آدھا کھلا ہوا دروازہ
سرہانہ: تکیے کی طرف، سر کے پاس
نمی: ہلکی گیلانی، آنسوؤں کی جھلک
اجنبی: انجان، پہچان سے باہر

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: